نئی دہلی،2؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ملک میں کئی اہم شہروں اور سڑکوں کے نام وقت وقت پر حکومتوں نے بدلا ہے۔مثلا کبھی دہلی میں اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کرکے اے پی جے عبدالکلام روڈ کر دیا گیا تو ہریانہ حکومت نے گڑگاؤں کا نام بدل کر گروگرام کر دیا۔اسی کڑی میں اب ایک بی جے پی لیڈر نے راجدھانی دہلی کا نام اندرپرستھ کرنے اور سرکاری دستاویزات اور آئین کے آرٹیکل ایک (1) سے ملک کا ’انڈیا‘ نام مٹانے کا کی آواز اٹھائی ہے۔بی جے پی لیڈر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اشونی اپادھیائے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ان شہروں اور سڑکوں کے ناموں کی فہرست بھیجی ہے، جن کا نام چاہتے ہیں کہ بدلا جائے۔ اشونی کی دلیل ہے کہ غلامی کی داستاں سے آزاد ہوئے ہندوستان میں غیر ملکی حملہ آوروں کے ناموں پر عمارتوں، سڑکوں اور شہروں کا نام نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ قدیم زمانے میں جو نام تھا، اسی کو پھر سے بحال کیا جائے۔انہوں نے انڈیا گیٹ کا نام ہندوستان دروازہ اور راج پتھ کا نام دھرم پتھ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس کے علاوہ انڈیا گیٹ کے ارد گرد سے گزرنے والی سات اہم سڑکوں کے نام بھگوان کرشن، بلرام، یدھشٹھر، ارجن وغیرہ پانڈو ں کے نام کرنے کی کوشش کی ہے۔اشونی اپادھیائے نے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں کئی شہروں کے نام گنائے ہیں، دعوی ہے کہ ان شہروں کا نام مغلوں نے بدلے۔اس میں کئی ریاستوں کے دارالحکومتوں، ضلع ہیڈکوارٹر اور ٹاؤن ایریا کے نام ہیں۔مثلا، حیدرآباد، احمد آباد، احمد نگر، اورنگ آباد، عمان آباد، بھوپال، پٹنہ، محبوب نگر، مظفر نگر، اجمیر، علی گڑھ، غازی پور اور فیض آباد وغیرہ۔اپادھیائے کے مطابق برطانوی اور مغلوں کے آنے سے پہلے ان شہروں کے نام دوسرے تھے۔اپادھیائے نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ملک کی آزادی کے بعد سے شہروں کے نئے نام ہوئے، جیسے 1996 میں مدراس سے چنئی، 2001 میں کلکتہ سے کولکاتہ، 2006 میں پانڈیچری سے پڈوچیری، 2007 میں بنگلور سے بنگلور، 2014 میں منگلور سے مگلورو اور 2016 میں گڑگاؤں کانام گروگرام کیا گیا، اسی طرح دہلی کا نام بھی بدل کر اندرپرستھ کیا جائے۔بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے نے خط میں کہا ہے کہ دنیا کے جتنے بھی ممالک ہیں، سب کے ایک ہی نام ہیں، مگر اپنا ملک ہندی میں بھارت اور انگریزی میں انڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انڈیا اور بھارت دو ناموں سے بھرم ہوتا ہے۔آئین کے آرٹیکل ایک میں درج انڈیا نام کو مٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اشونی اپادھیائے نے کہا کہ انگریز پہلے یہ لفط نہیں کہتے تھے، ہندوستان کی جگہ اندوستان کہتے تھے، بعد میں انڈیا نام کہہ دیا۔اپادھیائے نے کہا کہ 18 ستمبر 1949 کو جب آئین ساز اسمبلی کی میٹنگ ہوئی تھی تب کمپلا پتی ترپاٹھی، کیموتی ندن بہوگنا نے انڈیا نام رکھے جانے پر احتجاج تھا۔اس وقت ملک کا نام طے کرنے پر بحث ہوئی تھی۔